حدیث نمبر: 37122
٣٧١٢٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن القعقاع عن القاسم قال: قالت عائشة: (إن) (١) كنا لنمكث الشهر أو نصف الشهر ما يدخل بيتنا نار لمصباح ولا لغيره، فقلت: (بأي شيء) (٢) كنتم تعيشون؟ قالت: بالأسودين: الماء والتمر، وكان لنا جيران من الأنصار -جزاهم اللَّه خيرًا- لهم منائح فربما بعثوا إلينا من ألبانها (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ پورا پورا مہینہ یا آدھا مہینہ اس حال میں ٹھہرے رہتے کہ ہمارے گھر میں کوئی آگ … چراغ کی ہو یا غیر چراغ کی … داخل نہ ہوتی۔ میں نے (قاسم سے) کہا۔ پھر تم لوگ کس چیز کے ذریعہ زندگی گزارتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا دو چیزوں کے ذریعہ۔ یعنی پانی اور کھجور۔ اور کچھ انصار ہمارے پڑوس میں تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔ ان کے پاس اونٹنیاں تھیں تو بسا اوقات وہ ان اونٹنیوں کا دودھ ہماری طرف بھیج دیتے تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ع]: (أنا).
(٢) في [س]: (أي شيء).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37122
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد وابن عجلان صدوقان، وأخرجه البخاري (٢٥٦٧)، ومسلم (٢٩٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37122، ترقيم محمد عوامة 35544)