مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧١١٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا (حماد) (١) بن سلمة قال: أخبرنا ثابت عن ⦗٢٨٥⦘ أنس أن رسول اللَّه ﷺ قال: "يؤتى بأشد الناس (كان) (٢) بلاء في (الدنيا) (٣) من أهل الجنة، فيقول (اللَّه) (٤): اصبغوه صبغة في الجنة، فيصبغ فيها صبغة فيقول اللَّه: يا ابن آدم هل رأيت بؤسا قط، أو شيئا تكرهه؟ فيقول: لا، وعزتك، ما رأيت شيئا أكرهه قط، ثم يؤتى بأنعم الناس في (الدنيا) (٥) من أهل النار فيقول: اصبغوه صبغة (في النار) (٦)، فيصبغ فيها (فيقول) (٧): يا ابن آدم هل رأيت (قط) (٨) قرة عين؟ فيقول: لا، وعزتك ما رأيت خيرًا قط" (٩).حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جنت میں سے ایک ایسے آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بہت زیادہ مصیبتوں کا شکار ہوگا۔ تو ارشاد خداوندی ہوگا۔ اس آدمی کو جنت میں ایک غوطہ دو ۔ چناچہ اس آدمی کو جنت میں غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے آدم کے بیٹے ؟ کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف یا ناپسندیدہ چیز دیکھی ہے ؟ وہ جواب دے گا۔ نہیں، آپ کی عزت کی قسم ! میں نے کبھی کوئی ناپسندیدہ چیز نہیں دیکھی۔ پھر اس کے بعد اہل جہنم میں سے اس آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ نعمتوں میں رہا ہوگا۔ ارشاد خداوندی ہوگا۔ اس کو جہنم میں ایک غوطہ دو ۔ چناچہ اس کو جہنم میں غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے : اے آدم کے بیٹے ! تم نے کبھی آنکھوں کی ٹھنڈک دیکھی ہے ؟ وہ جواب دے گا۔ آپ کی عزت کی قسم ! نہیں، میں نے تو کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔