مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧١١٦ - حدثنا وكيع عن شعبة عن المغيرة بن النعمان عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: قام فينا رسول اللَّه ﷺ بموعظة فقال: " (إنكم) (١) محشورون إلى اللَّه حفاة غرلا ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كنا فَاعِلِينَ﴾ [الأنبياء: ١٠٤]، فأول الخلائق يلقى بثوب إبراهيم خليل الرحمن"، قال: "ثم يؤخذ قوم منكم ذات الشمال فأقول: يا رب أصحابي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك، إنهم لم يزالوا مرتدين على أعقابهم، فأقول كما قال العبد الصالح: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا﴾ إلى قوله: ﴿الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدة: ١١٧، ١١٨] (٢).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان وعظ کہنے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یقینا تم لوگ اللہ کی طرف ننگے سر، ننگے پاؤں اور غیر مختون حالت میں جمع کیے جاؤ گے۔ { کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا إنَّا کُنَّا فَاعِلِینَ } مخلوق میں سے سب سے پہلے جس کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ وہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم میں سے بائیں ہاتھ والے لوگوں کو پکڑا جائے گا تو میں کہوں گا۔ اے پروردگار ! یہ میرے ساتھی ہیں۔ کہا جائے گا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا ایجاد کیا۔ یہ لوگ مسلسل اپنی ایڑیوں پر واپس پلٹتے رہے۔ اس پر میں وہی بات کہوں گا جو عبد صالح … حضرت عیسیٰ علیہ السلام … نے کہی تھی۔