مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧١١٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا الوليد بن جميع عن أبي الطفيل عن حذيفة بن أَسِيد قال: قال أبو ذر: أيها الناس، قولوا (ولا تختلفوا) (١) فإن الصادق المصدوق حدثني: "أن الناس يحشرون يوم القيامة على ثلاثة أفواج: فوج (طاعمون كاسون راكبون) (٢)، وفوج (يمشون ويسعون) (٣)، وفوج (تسحبهم) (٤) الملائكة على وجوههم"، قال: قلنا: أما هذان فقد عرفناهما، فما الذي يمشون ويسعون؟ (قال) (٥): "يلقي اللَّه الآفة على الظهر، حتى لا يبقى ظهر، حتى أن الرجل ليعطي (الحديقة) (٦) -المعجبة بالشارف ذات القتب فما يجدها" (٧).حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن اسید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! بات کہو اور پھر اس کے خلاف نہ کرو۔ کیونکہ مجھے الصادق المصدوق نے بیان کیا ہے کہ ” یقینا لوگوں کو قیامت کے دن تین گروہوں میں میدانِ محشر میں لایا جائے گا۔ ایک گروہ آسودہ حال کپڑوں میں ملبوس، سواری پر سوار ہوگا اور ایک گرو ہ پیدل چلتا اور دوڑتا ہوگا اور ایک گروہ کو فرشتے ان کے منہ کے بل گھسیٹ کر لائیں گے۔ راوی کہتے ہیں ہم نے کہا : ان دو گروہوں کو تو ہم پہچانتے ہیں لیکن چلنے اور دوڑنے والے کون لوگ ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سواریوں پر موت کی آفت کو نازل کر دے گا۔ یہاں تک کہ ایک گھنے باغ والا شخص اگر اس کو عبور کرنے کے لیے کسی زین والی اونٹنی پر سوار ہوگا تو وہ اونٹنی اسے پار نہ کرسکے گی۔ (محدثین کے بیان کے مطابق اس جملے کا تعلق آخرت کے احوال سے نہیں ہے)