حدیث نمبر: 37115
٣٧١١٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا الوليد بن جميع عن أبي الطفيل عن حذيفة بن أَسِيد قال: قال أبو ذر: أيها الناس، قولوا (ولا تختلفوا) (١) فإن الصادق المصدوق حدثني: "أن الناس يحشرون يوم القيامة على ثلاثة أفواج: فوج (طاعمون كاسون راكبون) (٢)، وفوج (يمشون ويسعون) (٣)، وفوج (تسحبهم) (٤) الملائكة على وجوههم"، قال: قلنا: أما هذان فقد عرفناهما، فما الذي يمشون ويسعون؟ (قال) (٥): "يلقي اللَّه الآفة على الظهر، حتى لا يبقى ظهر، حتى أن الرجل ليعطي (الحديقة) (٦) -المعجبة بالشارف ذات القتب فما يجدها" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن اسید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! بات کہو اور پھر اس کے خلاف نہ کرو۔ کیونکہ مجھے الصادق المصدوق نے بیان کیا ہے کہ ” یقینا لوگوں کو قیامت کے دن تین گروہوں میں میدانِ محشر میں لایا جائے گا۔ ایک گروہ آسودہ حال کپڑوں میں ملبوس، سواری پر سوار ہوگا اور ایک گرو ہ پیدل چلتا اور دوڑتا ہوگا اور ایک گروہ کو فرشتے ان کے منہ کے بل گھسیٹ کر لائیں گے۔ راوی کہتے ہیں ہم نے کہا : ان دو گروہوں کو تو ہم پہچانتے ہیں لیکن چلنے اور دوڑنے والے کون لوگ ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سواریوں پر موت کی آفت کو نازل کر دے گا۔ یہاں تک کہ ایک گھنے باغ والا شخص اگر اس کو عبور کرنے کے لیے کسی زین والی اونٹنی پر سوار ہوگا تو وہ اونٹنی اسے پار نہ کرسکے گی۔ (محدثین کے بیان کے مطابق اس جملے کا تعلق آخرت کے احوال سے نہیں ہے)

حواشی
(١) في [أ، جـ، س، ع]: (ولا تحلفوا).
(٢) في [جـ]: (طاعمين، كاسين، راكبين).
(٣) في [أ، ع]: (يسعون ويمشون).
(٤) في [س]: (تستحيهم).
(٥) في [س]: (وقال).
(٦) في [س]: (الحذيفة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37115
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الوليد صدوق، ومن فوقه ثلاثة صحابة، والخبر أخرجه أحمد (٢١٤٥٧)، والنسائي (٢٢١٣)، والحاكم ٤/ ٥٦٤، والبزار ٤/ ٥٦٤، والطبراني في الأوسط (٨٤٣٧)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ٨٥، وقد أعله ابن أبي حاتم ٢/ ٢١٦ (٢١٣٧) اعتمادًا على رواية أضعف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37115، ترقيم محمد عوامة 35537)