حدیث نمبر: 37113
٣٧١١٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حاتم بن أبي صَغِيرة عن ابن أبي مليكة عن القاسم قال: قالت عائشة: قلت: يا رسول اللَّه، كيف يحشر الناس يوم القيامة؟ قال: (عراة حفاة) (١)، قلت: والنساء؟ قال: (والنساء)، قلت: يا رسول اللَّه، فما ⦗٢٨٣⦘ (نستحي؟) (٢) قال: "الأمر أشد من أن ينظر بعضهم إلى (بعض) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز لوگوں کو کس طرح اکٹھا کیا جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ننگے جسم اور ننگے پاؤں۔ میں نے عرض کیا : اور عورتیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عورتیں بھی۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں) میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں (ایک دوسرے سے) حیا نہیں آئے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ معاملہ اس سے سخت ہوگا کہ بعض، بعض کی طرف دیکھے۔

حواشی
(١) في [ع]: (حفاة عراة).
(٢) في [هـ]: (يستحي).
(٣) في [س]: (بعضهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37113
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه البخاري (٦٥٢٧)، ومسلم (٢٨٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37113، ترقيم محمد عوامة 35535)