حدیث نمبر: 37105
٣٧١٠٥ - حدثنا أبو معاوية وابن نمير ووكيع عن الأعمش عن المعرور بن سويد عن أبي ذر قال: انتهيت إلى النبي ﷺ وهو جالس في ظل الكعبة، فلما رآني قال: "هم الأخسرون ورب الكعبة"، فجئت فجلست فلم أتقار (١) أن قمت فقلت: يا رسول اللَّه فداك أبي وأمي من (هم؟) (٢) قال: "هم الأكثرون أموالا إلا من قال بالمال هكذا وهكذا (وهكذا) (٣) من بين يديه ومن خلفه وعن يمينه وعن شماله" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو ارشاد فرمایا : ” رب کعبہ کی قسم ! یہ لوگ بہت گھاٹے والے ہیں۔ پس میں آیا اور میں بیٹھ گیا۔ پس ابھی میں جمنے بھی نہ پایا تھا کہ میں کھڑا ہوگیا۔ اور میں نے عرض کیا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ لوگ مال کے اعتبار سے کثرت والے ہیں۔ ہاں مگر جو اپنے مال کو اس طرح اس طرح دے۔ اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں اور اپنے بائیں۔

حواشی
(١) أي: لم ألبث إلا قليلًا.
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من: [ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37105
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٨٨)، ومسلم (٩٩٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37105، ترقيم محمد عوامة 35527)