حدیث نمبر: 37104
٣٧١٠٤ - حدثنا محمد بن فضيل (عن يزيد) (١) (عن زيد) (٢) بن وهب عن أبي ذر قال: قام رجل ورسول اللَّه ﷺ يخطب فقال: يا رسول اللَّه أكلتنا (الضبع) (٣)، ⦗٢٨٠⦘ قال: فدفعه الناس حتى وقع، ثم قام أيضا فنادى بصوته، ثم التفت إليه رسول اللَّه ﷺ فقال: "أخوف عليكم عندي من ذلك أن تصب عليكم الدنيا صبا، فليت أمتي لا تلبس الذهب"، فقلت لزيد: ما (الضبع؟) (٤) قال: (السنة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قحط سالی نے ہمیں کھالیا ہے۔ راوی کہتے ہیں پس لوگوں نے اس کو بٹھایا اور وہ بیٹھ گیا۔ وہ پھر دوبارہ کھڑا ہوا اور اس نے اپنی آواز سے ندا لگائی پھر اس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے التفات فرمایا اور ارشاد فرمایا : مجھے تم پر اس سے بھی زیادہ اس بات کا خوف ہے کہ تم پر دنیا خوب بہا دی جائے، کاش کہ میری امت سونا نہ پہنے۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، ع].
(٣) في [س]: (الضيع).
(٤) في [ب، س]: (الضيع)، وفي [ع]: (الصبع).
(٥) في [س]: (الشينه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37104
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه أحمد (٢١٣٥٣)، والطيالسي (٤٤٧)، والبزار (٣٩٨٤)، والطبراني في الأوسط (٣٩٧٦)، والحارث (٥٨٦/ بغية).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37104، ترقيم محمد عوامة 35526)