حدیث نمبر: 37102
٣٧١٠٢ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن الزهري عن عروة وسعيد عن حكيم بن (حزام) (١) قال: سألت النبي ﷺ فأعطاني ثم سألته فأعطاني ثم (سألته فأعطاني) (٢) ثم قال: "إن (هذا) (٣) المال (خضرة حلوة) (٤)، فمن أخذه بطيب نفس بورك له فيه، ومن أخذه بإشراف نفس لم يبارك له فيه، وكان كالذي يأكل ولا يشبع، واليد العليا خير من اليد السفلى" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حکیم بن حزام سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ آپ نے مجھے عطا کیا۔ میں نے پھر آپ سے سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھر عطا کیا۔ میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھر عطا کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ پس جو شخص اس کو طیب نفس کے ساتھ لیتا ہے اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے۔ اور جو شخص اس مال کو اشرافِ نفس کی وجہ سے لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جاتی۔ اور اس شخص کی مثال اس آدمی کی طرح ہوتی ہے جو کھانا کھاتا ہے لیکن شکم سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر والا ہاتھ، نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (حرام).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [أ، ب]: تقديم وتأخير.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37102
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤٤١)، ومسلم (١٠٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37102، ترقيم محمد عوامة 35524)