مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧١٠٠ - حدثنا سفيان بن عيينة عن محمد بن عجلان عن عياض بن عبد اللَّه عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول اللَّه ﷺ وهو على المنبر: "إن أخوف ما أخاف عليكم ما يخرج اللَّه من نبات الأرض أو زهرة الدنيا"، فقام رجل فقال: يا رسول اللَّه (١) هل يأتي الخير بالشر؟ (فسكت) (٢) حتى ظننا أنه ينزل عليه وغشيه ⦗٢٧٨⦘ (بهر) (٣) وعرق، ثم قال: "أين السائل؟ " ولم يرد إلا خيرًا (٤). فقال: " (إن) (٥) الخير لا يأتي إلا بالخير، ولكن الدنيا خضرة حلوة، كل ما ينبت الربيع (يقتل) (٦) (حَبَطا) (٧) أو يلم، إلا آكلة الخضر، تأكل حتى إذا امتلأت خاصرتاها استقبلت الشمس فثلطت (٨)، ثم بالت، ثم أفاضت (فاجترت) (٩)، من أخذ مالا بحقه بورك فيه، ومن أخذ مالا بغير حقه كان كالذي يأكل و (لا) (١٠) يشبع" (١١).حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا … جبکہ آپ منبر پر تھے … ” مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ یہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ زمین کے نباتات میں یا زندگی کی رنگینی میں نکالیں گے۔ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر بھی شر لاتا ہے ؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پسینہ اور کپکپی ظاہر ہوگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ اس نے خیر کا ہی ارادہ کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یقینا خیر تو خیر ہی لاتی ہے لیکن یہ دنیا سرسبز اور میٹھی ہے۔ وہ پودے جو بہار میں اگتے ہیں وہ پیٹ کو خوب بھر لینے والے جانوروں کو یا تو مار ڈالتے ہیں یا مارنے کے قریب کردیتے ہیں، سوائے سبزہ کھانے والے ان جانوروں کے جو پیٹ کے معمولی بھر جانے کے بعد دھوپ میں چلے جاتے ہیں، جگالی کرتے ہیں، غذا کو نرم و ہضم کرتے ہیں، پاخانہ کرتے ہیں اور پھر کھانے کے لیے دوبارہ آجاتے ہیں۔ جو شخص مال کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے لیے اس مال میں برکت دی جاتی ہے اور جو شخص مال کو اس کے حق کے بغیر لیتا ہے تو اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔