مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧٠٩٤ - حدثنا ابن إدريس عن أشعث عن الحسن قال: جاء رسول اللَّه ﷺ إلى بيت (ابنته) (١) فاطمة، فرأى سترا (منشورًا) (٢) فرجع، قال: فأتاه علي فقال: ألم أخبر أنك أتيت ابنتك فلم تدخل، قال: فقال: "أفلم أرها سترت بيتها بنفقة في سبيل اللَّه"، فقيل للحسن: وما كان ذلك الستر؟ قال: قرام أعرابي (ثمنه) (٣) أربعة (الدراهم) (٤)، كانت تنشره في مؤخر البيت (٥).حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف تشریف لائے تو آپ نے پھیلا ہوا ایک پردہ دیکھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ مجھے یہ کیا خبر ملی ہے کہ آپ اپنی بیٹی کے ہاں تشریف لائے لیکن اندر نہیں آئے ؟ راوی کہتے ہیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں نے ان کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے راہ خدا کے خرچہ سے اپنے گھر پر پردہ لٹکایا ہوا تھا ؟ “ حضرت حسن سے پوچھا گیا یہ پردہ کون سا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : دیہاتی پردہ تھا جس کی قیمت چار دراہم کی تھی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس کو گھر کے پچھلے حصہ میں پھیلا دیتی تھیں۔