مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧٠٩٣ - حدثنا ابن نمير عن فضيل بن غزوان عن نافع عن ابن عمر أن رسول اللَّه ﷺ أتى فاطمة فوجد على بابها سترا، فلم يدخل قال: وقلما كان يدخل إلا (بدأ ⦗٢٧٥⦘ بها) (١)، فجاء عليٌّ فرآها (مهتمة) (٢) فقال: مالك؟ قالت: جاء إلي رسول اللَّه ﷺ فلم يدخل (عليّ) (٣)، فأتاه عليٌّ فقال: (يا رسول اللَّه) (٤) إن فاطمة اشتد عليها أنك جئتها فلم تدخل عليها، فقال: "وما (أنا) (٥) (و) (٦) الدنيا، أو ما أنا والرقم"، قال: فذهب إلى فاطمة (فأخبرها) (٧) بقول رسول اللَّه ﷺ فقالت: قل لرسول اللَّه ﷺ ما (تأمرني) (٨)؟. قال: "قل لها فلترسل به إلى (بني) (٩) فلان" (١٠).حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دروازہ پر پردہ ڈلا ہوا دیکھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف نہیں لائے۔ راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو بہت کم ایسا ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ کے ہاں پہلے نہ آتے۔ چناچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (جب گھر) تشریف لائے تو انہوں نے حضرت فاطمہ کو فکر مند اور مغموم دیکھا تو پوچھا تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف تشریف لائے لیکن میرے پاس اندر تشریف نہیں لائے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حضرت فاطمہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل بہت بھاری گزرا ہے کہ آپ ان کی طرف تشریف لائے اور آپ ان کے پاس اندر داخل نہیں ہوئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اور دنیا کیسے ؟ “ یا فرمایا ” میں اور نقش ونگار کیسے ؟ “ راوی کہتے ہیں پس حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے اور انہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتادی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کہ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو بنو فلاں کے پاس بھیج دے۔