حدیث نمبر: 37091
٣٧٠٩١ - حدثنا حسين بن علي وأبو أسامة عن زائدة عن (عبد) (١) الملك بن عمير عن ريعي عن أم سلمة قالت: دخل (٢) علي رسول اللَّه ﷺ وهو ساهم الوجه، فظننت أن (ذاك) (٣) من تغير، فقلت: يا رسول اللَّه أراك ساهم الوجه، أمن علة؟ قال: "لا، ولكن السبعة الدنانير التي أتينا بها أمس نسيتها في خُصْم الفراش (٤)، فبت ولم أقسمها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر تھا۔ میں نے خیال کیا کہ یہ (شاید) کسی تبدیلی کی وجہ سے ہے تو میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا متغیر چہرہ دیکھ رہی ہوں۔ کیا یہ کسی بیماری کی وجہ سے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں۔ لیکن اس کی وجہ وہ سات دنانیر ہیں جو کل ہمارے پاس لائے گئے تھے۔ میں ان کو بستر کے کنارے میں (رکھ کر) بھول گیا تھا۔ پس میں نے ان کو تقسیم کیے بغیر رات گزار دی ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب، جـ]: زيادة (رجل).
(٣) في [جـ، س]: (ذلك).
(٤) أي: طرفه وناحيته، وانظر: غريب الحديث لابن الجوزي ١/ ٢٨٢.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37091
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٦٦٧٢)، وابن حبان (٥١٦٠)، وأبو يعلى (٧٠١٧)، وابن جرير في مسند ابن عباس من التهذيب (٤٣١)، والطبراني ٢٣/ (٧٥١)، والبيهقي ٦/ ٣٥٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37091، ترقيم محمد عوامة 35513)