مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧٠٩١ - حدثنا حسين بن علي وأبو أسامة عن زائدة عن (عبد) (١) الملك بن عمير عن ريعي عن أم سلمة قالت: دخل (٢) علي رسول اللَّه ﷺ وهو ساهم الوجه، فظننت أن (ذاك) (٣) من تغير، فقلت: يا رسول اللَّه أراك ساهم الوجه، أمن علة؟ قال: "لا، ولكن السبعة الدنانير التي أتينا بها أمس نسيتها في خُصْم الفراش (٤)، فبت ولم أقسمها" (٥).حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر تھا۔ میں نے خیال کیا کہ یہ (شاید) کسی تبدیلی کی وجہ سے ہے تو میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا متغیر چہرہ دیکھ رہی ہوں۔ کیا یہ کسی بیماری کی وجہ سے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں۔ لیکن اس کی وجہ وہ سات دنانیر ہیں جو کل ہمارے پاس لائے گئے تھے۔ میں ان کو بستر کے کنارے میں (رکھ کر) بھول گیا تھا۔ پس میں نے ان کو تقسیم کیے بغیر رات گزار دی ہے۔