مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧٠٩٠ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ (في مرضه) (١) (الذي مات فيه) (٢): "ما فعلت الذهبُ؟ " فقلت: عندي يا رسول اللَّه، قال: "ائتني بها"، فأتيته بها، وهي ما بين الخمسة إلى التسعة فجعلها في كفه، فقال: بها، ثم قال: "ما ظن محمد (٣) بها أن لو لقي اللَّه وهذه عنده، أنفقيها (يا) (٤) عائشة" (٥).حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، یہ ارشاد فرمایا : ” سونے کا کیا ہوا ؟ “ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ میرے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کو میرے پاس لے آؤ۔ پس میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ پانچ سے نو کے درمیان تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی ہتھیلی میں رکھا اور اس کو پلٹا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر یہ سونا محمد ﷺ کے پاس ہوتا اور وہ اللہ سے جا ملتا تو ان کے بارے محمد ﷺ کا خیال کیا ہوتا ؟ اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! تم ان کو خرچ کردو۔