حدیث نمبر: 37090
٣٧٠٩٠ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ (في مرضه) (١) (الذي مات فيه) (٢): "ما فعلت الذهبُ؟ " فقلت: عندي يا رسول اللَّه، قال: "ائتني بها"، فأتيته بها، وهي ما بين الخمسة إلى التسعة فجعلها في كفه، فقال: بها، ثم قال: "ما ظن محمد (٣) بها أن لو لقي اللَّه وهذه عنده، أنفقيها (يا) (٤) عائشة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، یہ ارشاد فرمایا : ” سونے کا کیا ہوا ؟ “ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ میرے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کو میرے پاس لے آؤ۔ پس میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ پانچ سے نو کے درمیان تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی ہتھیلی میں رکھا اور اس کو پلٹا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر یہ سونا محمد ﷺ کے پاس ہوتا اور وہ اللہ سے جا ملتا تو ان کے بارے محمد ﷺ کا خیال کیا ہوتا ؟ اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! تم ان کو خرچ کردو۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، هـ].
(٣) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٤) سقط من: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37090
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٢٤٢٢٢)، والحميدي (٢٨٣)، وابن سعد ٢٣٨/ ٢، وابن جرير في مسند ابن عباس من تهذيب الآثار (٤١٩)، والبيهقي ٦/ ٣٥٦، وابن حبان (٣٢١٢)، وابن عساكر ٤/ ١١٠، وهناد (٦٢٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37090، ترقيم محمد عوامة 35512)