حدیث نمبر: 37067
٣٧٠٦٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن الحسن قال: كان النبي ⦗٢٦٦⦘ ﷺ تأخذه العبادة حتى يخرج على الناس كأنه (الشن) (١) البالي (٢)، وكان أصبح الناس، فقيل: (يا) (٣) رسول اللَّه (٤) أليس قد غفر اللَّه لك؟ قال: "أفلا أكون عبدا شكورا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (اللہ کی) عبادت اس طرح سے مصروف کرتی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لاتے تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت پرانے مشکیزہ کی طرح ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔ چناچہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کردیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو کیا میں شکر کرنے والا بندہ نہ بنوں۔

حواشی
(١) في [س]: (السن).
(٢) أي: القربة القديمة.
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [س]: زيادة ﷺ.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37067
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، الحسن تابعي، أخرجه ابن سعد ٢/ ٢٠٩، والبيهقي في الشعب (١٤٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37067، ترقيم محمد عوامة 35489)