مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧٠٦٤ - حدثنا محمد بن بشر (قال: حدثنا) (١): محمد بن عمرو قال: حدثنا صفوان بن سليم عن محمود بن لبيد قال: لما نزلت هذه السورة على رسول اللَّه ﷺ: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (١) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ حتى بلغ: ﴿لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾ (قالوا) (٢): أي رسول اللَّه (٣) عن أي نعيم نسأل (إنما هما الأسودان: الماء والتمر (٤)، ⦗٢٦٥⦘ وسيوفنا على رقابنا والعدو حاضر، فعن أي نعيم نسأل؟) (٥) قال: "إن ذلك سيكون" (٦).حضرت محمود بن لبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ سورة { أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ۔ تا۔ ثم لَتُسْأَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیمِ } نازل ہوئی تو لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم سے کون سی نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا ؟ یہ صرف دو ہی … نعمتیں … ہیں۔ پانی اور کھجور۔ جبکہ ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر ہیں اور دشمن حاضر ہے۔ تو پھر کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا ؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ حالات عنقریب آجائیں گے۔