مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧٠٥٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: حدثني أخي نعمان عن مصعب بن سعد عن حفصة بنت عمر قال: قالت لأبيها: يا أمير المؤمنين ما عليك لو لبست ألين من ثوبك هذا، وأكلت أطيب من طعامك هذا، قد فتح اللَّه عليك الأرض، وأوسع عليك الرزق، قال: سأخاصمك إلى نفسك أما تعلمين ما كان يلقى رسول اللَّه ﷺ من شدة العيش، وجعل يذكرها شيئا مما كان يلقى رسول اللَّه ﷺ حتى أبكاها، قال: قد قلت لك: إنه كان لي صاحبان سلكا طريقا فإني إن سلكت غير طريقهما سلك بي غير طريقهما، فإني واللَّه لأشاركنهما في مثل عيشهما الشديد، لعلي أدرك معهما عيشهما الرخي، -يعني بصاحبيه النبي ﷺ وأبا بكر رضي اللَّه (١) عنه (٢).حضرت مصعب بن سعد، حضرت حفصہ بنت عمر کے بارے میں روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد سے کہا اے امیر المومنین ! اگر آپ اپنے ان کپڑوں سے نرم کپڑے پہنیں اور اپنے اس کھانے سے اچھا کھانا کھائیں تو آپ کے لیے کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر زمین کی فتوحات کو کھول دیا ہے اور آپ پر رزق کو وسعت دے دی ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہارے ساتھ جھگڑے میں تمہیں ہی فیصل بناتا ہوں۔ کیا تم اس بات کو نہیں جانتی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی کی کتنی سختی کا سامنا کرنا پڑا تھا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش آنے والے واقعات یاد دلانے شروع کیے۔ یہاں تک کہ آپ نے حضرت حفصہ کو رلا دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تحقیق میں نے تمہیں کہا تھا کہ میرے جو دو ساتھی تھے وہ ایک راستہ چل گئے ہیں پس اگر میں ان کے راستے کے علاوہ راستہ پر چلوں گا تو میری وجہ سے ان کے راستہ کے علاوہ راستہ چلا جائے گا۔ پس میں … خدا کی قسم … البتہ ضرور بالضرور ان کی سخت زندگی کی طرح ان کے ساتھ شریک ہوں گا۔ شاید کہ میں ان کے ساتھ ان کی آسودہ زندگی میں بھی پایا جاؤں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اپنے دو ساتھیوں سے مراد، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔