حدیث نمبر: 37039
٣٧٠٣٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن (أبان) (١) بن إسحاق عن الصباح بن محمد الأحمسي عن مرة الهمداني عن عبد اللَّه بن مسعود قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "استحيوا من اللَّه حق الحياء"، قال: قلنا: إنا لنستحي (٢) يا رسول اللَّه (ﷺ؟) (٣) قال: "ليس ذلك، ولكن من استحيا من اللَّه حق الحياء فليحفظ الرأس وما حوى، وليحفظ (البطن وما وعى) (٤)، وليذكر الموت والبلى، ومن أراد الآخرة ترك زينة الدنيا، فمن فعل ذلك فقد استحيا من اللَّه حق الحياء" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ایسی حیا کرو جیسا کہ حیا کا حق ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم تو حیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ حیا نہیں بلکہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس طرح حیا کرے جیسا کہ حیا کا حق ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ سر اور اس میں موجود اعضاء کی حفاظت کرے، اور اس کو چاہیے کہ پیٹ اور اس میں موجود اعضاء کی حفاظت کرے، اور اس کو چاہیے کہ وہ موت اور بوسیدہ ہونے کو یاد کرے اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے تو وہ دنیا کی زینت چھوڑ دیتا ہے۔ پس جو شخص یہ کام کرلے تو پس تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ سے حیا کرنے میں حق ادا کردیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع، هـ]: (محمد)، والتصويب من مسند ابن أبي شيبة (٣٤٣)، وكتب التخريج والتراجم.
(٢) في [أ]: زيادة (من اللَّه).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٤) في [أ، ب]: (النظر وما دعا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37039
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ الصباح ضعيف، أخرجه أحمد (٣٦٧١)، والترمذي (٢٤٥٨)، والحاكم ٤/ ٤٢٣، وأبو يعلى (٥٠٤٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٧٣٠)، والطبراني (١٠٢٩٠)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٢٠٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37039، ترقيم محمد عوامة 35461)