حدیث نمبر: 37037
٣٧٠٣٧ - حدثنا أبو معاوية عن (سليمان) (١) بن فروخ عن الضحاك بن مزاحم قال: أتى النبي ﷺ (رجل) (٢) (فقال) (٣): يا رسول اللَّه من أزهد الناس في الدنيا؟ فقال: "من لم ينس المقابر والبلى، وترك أفضل زينة الدنيا، وآثر ما يبقى على ما يفنى، ولم يعد غدا من أيامه، وعد نفسه من الموتى" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ضحاک بن مزاحم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دنیا کے معاملہ میں لوگوں میں سب سے بڑا زاہد کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص قبروں اور بوسیدہ ہونے کو نہ بھولے۔ اور دنیا کی زینت میں سے افضل کو چھوڑ دے، اور باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دے اور کل کے دن کو اپنے ایام (حیوۃ) میں سے شمار نہ کرے اور اپنے کو مردوں میں شمار کرے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (الأعمش).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37037
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ الضحاك تابعي، وسليمان مجهول، أخرجه البيهقي في الشعب (١٠٥٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37037، ترقيم محمد عوامة 35459)