مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧٠٣٢ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا معاوية (النصري) (١) عن نهشل عن الضحاك بن مزاحم عن الأسود قال: قال عبد اللَّه: لو أن أهل العلم صانوا علمهم ووضعوه عند أهله لسادوا به أهل زمانهم، ولكنهم بذلوه لأهل الدنيا لينالوا به من دنياهم، فهانوا على أهلها، سمعت نبيكم ﷺ (٢) يقول: "من جعل الهموم هما واحدا كفاه اللَّه هم آخرته، ومن تشعبت به الهموم وأحوال الدنيا لم يبال اللَّه في أي أوديتها وقع" (٣).حضرت اسود کہتے ہیں : عبد اللہ نے فرمایا : اگر اہل علم اپنے علم کی حفاظت کریں، اور اس (علم) کو ان ہی لوگوں میں پھیلائیں جو اس کے اہل ہیں، تو وہ اس کے باعث اہل زمانہ پر حکومت کریں۔ لیکن انہوں نے وہ علم اہل دنیا میں لٹا ڈالا تاکہ اس کے ذریعہ ان سے ان کی دنیا (کا مال و دولت اور فوائد) حاصل کریں۔ تو وہ اہل دنیا میں رسوا ہو (کر رہ) گئے۔ میں نے تمہارے نبی e کو (یہ) فرماتے سنا ہے : جس نے اپنی تمام فکروں میں سے ایک (دین کی فکر) کو اختیار کرلیا، اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کے معاملہ میں اس کے لئے کافی ہوجائیں گے۔ اور جس شخص کو (دنیاوی) فکروں اور دنیا کے حالات نے (الجھا کر) متفرق (خواہشات اور آرزوؤں میں مبتلا) کر ڈالاتو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پروا نہ ہوگی کہ وہ (مصائب و گمراہی کی) کس وادی میں جا پڑے۔