حدیث نمبر: 37028
٣٧٠٢٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (شقيق) (١) قال: دخل معاوية على خاله أبي هاشم بن عتبة يعوده فبكى فقال له معاوية: ما يبكيك يا خالي، أوجع (يشئزك) (٢) (أم) (٣) حرص على الدنيا؟ فقال: كلٌ لا، ولكن النبي ﷺ عهد إلينا (قال) (٤): "يا أبا هاشم، إنها لعلها تدرككم (أموال) (٥) (تؤتاها) (٦) أقوام، ⦗٢٥٢⦘ فإنما يكفيك من جمع المال: خادم ومركب في سبيل اللَّه"، فأراني قد جمعت (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شقیق کہتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہاپنے ماموں ابو ہاشم بن عتبہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو ان کے ماموں رونے لگے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا : اے میرے ماموں آپ کیوں رو رہے ہیں، کیا (مرض کی) تکلیف نے آپ کو رنجیدہ کر رکھا ہے یا دنیا سے (طبعی) لگاؤ نے۔ انہوں نے جواب دیا : ایسی کوئی بات نہیں ہے ، بلکہ (مجھے تو اس بات نے رنجیدہ کر رکھا ہے کہ) نبی اکرم e نے ہمیں وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا : اے ابو ہاشم ! تمہیں بھی یقینا وہ مال و دولت میسر آئے گا جو دیگر (فاتح) اقوام کو میسر آتا ہے ، مگر تمہارے لئے تو صرف ایک خادم اور راہ خدا میں (جہاد کے لئے) ایک سواری ہی کافی ہوگی۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میں (اس سے کہیں زیادہ) مال جمع کرچکا ہوں۔

حواشی
(١) في [س]: (سفيان).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (تشينك).
(٣) في [أ، ب، جـ، ع]: (أو).
(٤) في [أ، ب]: (فقال).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [ب]: (لوتها).
(٧) منقطع؛ شقيق يرويه بالواسطة كما سيأتي، أخرجه أحمد (١٥٦٦٤)، والترمذي (٢٣٢٧)، والنسائي في الكبرى (٩٨١٠)، والحاكم ٣/ ٦٣٨، والطبراني (٧٢٠٠)، وهناد في الزهد (٥٦٥)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٥٥٩)، والدولابي ١/ ٦٠، وابن عبد البر في الاستيعاب ١٢/ ١٦٦، والمزي ٣٤/ ٣٦٠.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37028
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37028، ترقيم محمد عوامة 35451)