حدیث نمبر: 37024
٣٧٠٢٤ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس قال: سمعت مُسْتَوْرِدًا (أخا بني) (١) (فهر) (٢) يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "واللَّه ما الدنيا في الآخرة إلا كما يضع أحدكم إصبعه في اليم ثم يرفعها فلينظر بم يرجع" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مستورد جو کہ بنی فہر سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ e کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ کی قسم آخرت (کے مقابلے) میں (دنیا کی مثال) ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی کو دریا میں ڈبو کر نکال لے ، پھر دیکھے کہ (اس دریا کے پانی میں سے اس کی انگلی کے ساتھ لگ کر) کتنا نکلا ہے (بس جو حیثیت دریا کے پانی کے مقابلے میں انگلی پر لگے ہوئے پانی کی ہے وہی حیثیت آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ہے) ۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (أخي بني)، وفي [س]: (أخاني).
(٢) في [س]: (فهو).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37024
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٥٨)، وأحمد (١٨٠٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37024، ترقيم محمد عوامة 35447)