حدیث نمبر: 37021
٣٧٠٢١ - حدثنا أبو معاوية عن ليث عن مجاهد عن ابن عمر قال: أخذ النبي ﷺ بيدي أو ببعض جسدي فقال لي: "يا عبد اللَّه بن عمر كن (في الدنيا) (١) غريبا أو عابر سبيل، وعد نفسك في أهل القبور" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مجاھد سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : حضور اکرم e نے میرا ہاتھ۔ یا مجھے۔ پکڑا اور مجھ سے فرمایا : اے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی پردیسی یا راہ رو کی مانند زندگی گزار، اور خود کو اہل قبور میں شمار کر۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں : (یہ روایت بیان کرنے کے بعد) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جب صبح ہوجائے تو تم آئندہ شام کے بارے میں مت سوچو اور جب شام ہوجائے تو تم آئندہ صبح کے بارے میں مت سوچو۔ اور اپنی موت (کے آنے) سے پہلے اپنی زندگی سے فائدہ اٹھا لو، اور اپنی بیماری (کے آنے) سے پہلے اپنی صحت سے نفع اٹھا لو، کیونکہ یقینا تم نہیں جانتے کہ کل تمہارا کیا نام ہوگا (زندہ یا مردہ) ۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37021
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث، أخرجه أحمد (٥٠٠٢)، والترمذي (٢٣٣٣)، وابن ماجه (٤١١٤)، وأصله عند البخاري (٦٤١٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37021، ترقيم محمد عوامة 35445)