٣٧٠١١ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب قال: حدثني خالد بن (باب) (١) الربعي -قال جعفر (٢) وكان يقرأ الكتب أن لقمان كان عبدا حبشيا نجارا، وأن سيده قال (له) (٣): اذبح لي شاة، (قال) (٤): فذبح له شاة فقال: ائتني بأطيبها مضغتين، (٥) فأتاه باللسان والقلب، قال: فقال: ما كان فيها شيء أطيب من هذين؟ قال: لا، فسكت عنه ما سكت، ثم قال: اذبح لي شاة، فذبح له شاة (قال) (٦): ألق أخبثها مضغتين، فألقى اللسان والقلب، فقال له: قلت لك ائتني بأطيبها (مضغتين) (٧) فأتيتني باللسان والقلب، ثم قلت لك: ألق أخبثها مضغتين، فألقيت اللسان والقلب، (فقال) (٨): ليس شيء أطيب منهما إذا طابا، ولا (أخبث) (٩) منهما إذا خبثا.حضرت جعفر جو کہ کتابوں کا مطالعہ کرنے والے تھے فرماتے ہیں : بیشک لقمان رحمہ اللہ حبشہ کے رہنے والے بڑھئی غلام تھے : (ایک مرتبہ) ان کے آقا نے ان سے کہا : میرے لئے بکری ذبح کرو۔ جعفر کہتے ہیں : انہوں نے ان کے لئے بکری ذبح کردی۔ ان کے آقا نے کہا : اس کے دو بہترین اعضاء میرے لئے لے آؤ۔ تو وہ اس کے پاس دل اور زبان لے آئے۔ جعفر کہتے ہیں : ان کے آقا نے کہا : کیا اس کے اندر اس سے بہتر کوئی چیز نہ تھی ؟ حضرت لقمان رحمہ اللہ نے فرمایا : نہیں۔ تو ان کا آقا خاموش ہوگیا اور کچھ عرصہ ایسے ہی گزر گیا۔ پھر (ایک دن) ان کے آقا نے کہا : میرے لئے بکری ذبح کرو۔ تو انہوں نے بکری ذبح کردی۔ ان کے آقا نے کہا : اس کے دو بد ترین اعضاء نکال دو ۔ تو انہوں نے اس کا دل اور زبان نکال دی۔ ان کے آقا نے کہا : میں نے تم سے کہا دو بہترین اعضاء لے آؤ تو تم دل اور زبان لے آئے پھر میں نے تم سے کہا کہ اس کے دو بدترین اعضاء لے آؤ تو تم پھر دل اور زبان لے آئے (اس کی کیا وجہ ہے ؟ ) ۔ حضرت لقمان رحمہ اللہ نے فرمایا : جب دل اور زبان پاکیزہ ہوں تو ان سے بہتر کوئی چیز (جسم میں) نہیں ہے۔ اور جب دل اور زبان برے ہوں تو ان سے بدتر کوئی چیز (جسم) میں نہیں ہے۔