٣٧٠٠٧ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرني الأحوص بن حكيم عن زهير بن عبد الرحمن عن يزيد بن ميسرة وكان قد قرأ الكتب قال: إن اللَّه أوحى فيما أوحى إلى موسى ﵇ (١): أنَّ أحب عبادي إلي الذين يمشون (٢) في الأرض بالنصيحة، والذين يمشون على أقدامهم إلى (الجمعات) (٣) ⦗٢٤٥⦘ (والمستغفرين بالأسحار) (٤)، أولئك الذين إذا أردت أن أصيب أهل الأرض بعذاب ثم رأيتهم كففت (٥) عذابي، وأن أبغض عبادي إليّ (الذي) (٦) يقتدي بسيئة المؤمن ولا يقتدي بحسنته.حضرت یزید بن میسرہ (جو کہ کتاب اللہ کا علم رکھتے تھے) فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو وحی فرمایا اس میں یہ بھی تھا : بیشک میرے بندوں میں سے وہ لوگ مجھے زیادہ پسندیدہ ہیں جو دنیا میں خیر خواہی کرنے والے ہیں، اور وہ لوگ جو جمعہ کی نمازوں کے لئے چل کر جاتے ہیں، اور سحر کے وقت میں مغفرت طلب کرنے والے۔ جب میرا ارادہ ہوتا ہے کہ میں اہل زمین کو عذاب دوں تو میں ان لوگوں کی وجہ سے ان پر سے عذاب کو ٹال دیتا ہوں۔ اور لوگوں میں سب سے زیادہ وہ لوگ مجھے ناپسند ہیں جو مومن کی برائی کی تلاش میں رہتے ہیں اور اس کی نیکی کو نہیں دیکھتے۔