٣٧٠٠٦ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن خلف بن حوشب قال: دخل (جبرائيل) (١) ﵇ (٢) -أو قال: الملك- على يوسف ﵇ (٣) وهو في السجن، فقال: أيها الملك الطيب الريح، الطاهر الثياب، أخبرني عن يعقوب أو ما فعل يعقوب؟ قال: ذهب بصره، قال: ما بلغ من حزنه؟ قال: حزن سبعين ثكلى، قال: ما أجره؟ قال: أجر مائة شهيد.حضرت خلف بن حوشب کہتے ہیں : جبرائیل -علیہ السلام یا وہ کہتے ہیں : کوئی فرشتہ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس قید خانہ میں حاضر ہوئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا : اے خوش مہک و پاکیزہ فرشتے ! مجھے یعقوب علیہ السلام کے بارے میں بتلائیے۔ یا انہوں نے فرمایا : یعقوب علیہ السلام کا کیا عمل تھا ؟ فرشتے نے جواب دیا : ان کی بینائی چلی گئی تھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے پھر دریافت فرمایا : انہیں کس قدر غم ہوا تھا ؟ فرشتے نے جواب دیا : ستر ایسی ماؤں کے غم کے بقدر جن کے بچے گم ہوگئے ہوں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے پھر دریافت فرمایا : ان کے لئے (اس پر) کیا اجر ہے ؟ فرشتے نے جواب دیا : (ان کے لئے اس پر) سو شہیدوں کے برابر اجر ہے۔