٣٧٠٠٥ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا بن أبي ذئب عن سعيد المقبري (عن أبيه) (١) عن عبد اللَّه بن سلام قال: قال موسى ﵇ (٢) لربه: (يا ⦗٢٤٤⦘ رب) (٣)، ما الشكر الذي ينبغي لك؟ قال: لا يزال لسانك رطبا من ذكري، قال: يا رب، إني أكون على حال أجلك أن أذكرك: من الجنابة والغائط وإراقة الماء وعلى غير وضوء، قال: بلى، قال: كيف أقول؟ قال: (قل) (٤) سبحانك وبحمدك لا إله إلا أنت فاجنبني الأذى سبحانك وبحمدك لا إله إلا أنت (فقني) (٥) الأذى (٦).حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ جل شانہ سے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! وہ کون سا شکر (ادا کرنے کا طریقہ) ہے جو (قدرے) آپ کے شایانِ شان ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا : (وہ طریقہ یہ ہے کہ) آپ کی زبان ہمیشہ میرے ذکر سے تر رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے میرے رب میں کبھی ایسی حالت میں ہوتا ہوں جس میں آپ کا ذکر کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں سمجھتا، جیسے حالت جنابت، قضاء حاجت، غسل کا وقت اور بےوضو ہونے کی حالت میں (تو کیا ایسے حالتوں میں بھی میں آپ کا ذکر کیا کروں) ۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا : کیوں نہیں 1 (ایسی حالت میں بھی دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاسکتا ہے) ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا : (ایسے مواقع میں دل ہی دل میں حمد وثنا کے کلمات میں سے) کیسے (کلمات) کہا کروں ؟ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا : (یوں) کہو : پاک ہیں آپ (اے اللہ تعالیٰ) اور تعریف آپ (ہی) کے لئے ہے۔ آپ کے سوا کوئی معبودحقیقی نہیں ہے تو آپ ہی مجھے گندگی سے دور رکھئے۔ پاک ہیں آپ (اے اللہ تعالیٰ) اور تعریف آپ (ہی) کے لئے ہے۔ آپ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ہے تو آپ ہی مجھے گندگی سے بچائیے۔