حدیث نمبر: 37004
٣٧٠٠٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عطاء (بن) (١) أبي مروان الأسلمي عن أبيه عن كعب قال: قال موسى: أي (رب) (٢) (أقريب) (٣) أنت فأناجيك أم بعيد فأناديك؟ قال: يا موسى أنا جليس من ذكرني، قال: يا رب، فإنا نكون من الحال على حال نعظمك أو نجلك أن نذكرك عليها، قال: (وما هي؟) (٤) قال: الجنابة والغائط، قال: يا موسى اذكرني على كل حال.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت کعب کہتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (بارگاہِ الٰہی میں) عرض کیا : اے میرے رب ! (مجھے بتا دیجئے ، ) کیا آپ (مجھ سے اتنا) قریب ہیں کہ (میں جب آپ کی جناب میں کچھ عرض کرنا چاہوں تو) آپ سے سرگوشی میں بات کروں، یا آپ (مجھ سے اتنا) دور ہیں کہ میں (عرضِ حاجات کے وقت) آپ کو (ذرا بلند آواز میں) پکار کے کلام کیا کروں ؟ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا : اے موسیٰ ! میں اپنے ہر یاد کرنے والے کے قریب (ہی) ہوتا ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر عرض کیا : اے میرے پروردگار ! ہم کبھی ایسی حالت میں بھی ہوتے ہیں جس میں ہم آپ کا ذکر کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں سمجھتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : وہ کون سی حالت ہے (جس میں تم میرا ذکر کرنا میرے شایانِ شان نہیں سمجھتے) ؟ انہوں نے (جواب میں) عرض کیا : ناپاکی (کی حالت میں) اور قضاء حاجت (کے وقت) ۔ اللہ جل جلالہ نے فرمایا : اے موسیٰ ہر حال میں میرا ذکر کیا کرو (البتہ قضاء حاجت اور دیگر ایسے مواقع پر جہاں زبان سے ذکر کرنا مناسب نہ ہو دل ہی دل میں ذکر کرلیا جائے) ۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٤) سقط من: [ع].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37004
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37004، ترقيم محمد عوامة 35428)