حدیث نمبر: 37002
٣٧٠٠٢ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن زيد بن أسلم عن عبد اللَّه بن عبيد عن أبيه قال: قال موسى ﵇ (١): أي رب، ذكرت إبراهيم وإسحاق ويعقوب، بم أعطيتهم ذاك؟ قال: إن إبراهيم لم يعدل (بي شيئًا) (٢) إلا اختارني، وإن إسحاق جاد (لي) (٣) بنفسه وهو (بما) (٤) سواها أجود، ⦗٢٤٣⦘ وإن يعقوب لم (ابتله) (٥) ببلاء إلا ازداد بي حسن ظن.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبداللہ بن عبید کے والد ماجد کہتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (اللہ تبارک و تعالیٰ کی خدمت میں) عرض کیا : اے میرے رب ! آپ نے ابراہیم ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب ۔ کا ذکر (اپنے محبوب بندوں میں) فرمایا ہے، یہ (مقام و مرتبہ) آپ نے انہیں (ان کے) کس (عمل کی برکت کی) وجہ سے عطا فرمایا ؟ اللہ تبارک وتعالیٰ نے (جواب میں) ارشاد فرمایا : بیشک ابراہیم (علیہ السلام ) نے جب بھی (کسی معبودِ باطل یا ناجائز کام کو میرے یا میرے حکم کے مقابلے میں آتے دیکھا اور مجبورا انہوں نے اس سے) میرا موازنہ کیا تو (اس معبودِ باطل اور غیر شرعی کام کو چھوڑ کر میرے حکم کو اور) مجھے ہی اختیار کیا۔ اور اسحاق (علیہ السلام ) نے میری رضا کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ 1 پیش کردیا تھا، اور جان کے علاوہ دیگر اشیاء (کو میری رضا کی خاطر صدقہ و خیرات کی مد میں خرچ کرنے کے سلسلے) میں تو ان کی فیاضی (اس سے بھی) بہت زیادہ تھی۔ اور یعقوب (علیہ السلام کے مجھ پر بھروسہ کا یہ عالم تھا کہ ان) کو میں نے جب بھی آزمایا ، میرے ساتھ ان کا حسن ظن ہی بڑھا (بد گمانی پیدا نہیں ہوئی) ۔

حواشی
(١) سقط من: [ع، هـ].
(٢) في [ع]: (شيئًا بي).
(٣) سقط من: [هـ]، والصواب أن إسماعيل هو الذبيح.
(٤) في [أ، ب، جـ]: (لما).
(٥) في [جـ]: (ابتليه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37002
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37002، ترقيم محمد عوامة 35426)