حدیث نمبر: 36991
٣٦٩٩١ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: ذكر عن بعض الأنبياء (١) أنه قال: اللهم لا تكلفني طلب ما لم (تقدره) (٢) لي، وما (قدرت) (٣) لي (به) (٤) من رزق فإنني به في يسر منك وعافية، وأصلحني بما ⦗٢٣٩⦘ أصلحت به الصالحين، فإنما (أصلح) (٥) الصالحين أنت.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں : کسی نبی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : اے اللہ ! مجھے اسی چیز کی تلاش کی تکلیف مت دیجئے جو آپ نے میرے مقدر میں لکھی ہی نہیں، اور جو رزق آپ نے میرے مقدر میں لکھ دیا ہے اسے بسہولت و عافیت مجھ تک پہنچا دیجئے۔ اور جس طرح سے آپ نے صالح لوگوں کی اصلاح فرمائی میری بھی اسی طرح سے اصلاح فرما دیجئے۔ کیونکہ (میں جانتا ہوں کہ) صالحین کی اصلاح بھی آپ ہی نے فرمائی ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: زيادة ﵈.
(٢) في [أ، ب، جـ]: (تقدر).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (قدر).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، ع].
(٥) في [ع]: (صلح).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36991
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36991، ترقيم محمد عوامة 35415)