حدیث نمبر: 36990
٣٦٩٩٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر عن زيد العمي عن أبي الصديق الناجي: أن سليمان بن داود خرج بالناس (ليستسقي) (١) فمر على نملة مستلقية على قفاها رافعة قوائمها إلى السماء وهي تقول: اللهم (أنا) (٢) خلق من خلقك ليس بنا غنى عن رزقك، فإما أن تسقينا وإما أن تهلكنا، فقال سليمان للناس: ارجعوا فقد سقيتم بدعوة غيركم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صدیق ناجی سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد i لوگوں کو لے کر (اللہ تعالیٰ سے) بارش کی دعا کرنے نکلے تو آپ کا گزر ایک ایسی چیونٹی پر ہوا جو اپنی ٹانگیں آسمان کی طرف اٹھائے چت لیٹی کہہ رہی تھی : اے اللہ ! میں بھی تیری مخلوقات میں سے (ایک ادنی سی) مخلوق ہوں، میں تیرے رزق سے بےنیاز نہیں ہوں ، یا تو مجھے پانی پلا دے، یا پھر مجھے موت دیدے۔ سلیمان علیہ السلام نے لوگوں سے فوراً کہا : لوٹ چلو، تمہیں کسی اور کی دعا نے ہی سیراب کر وا دیا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (يستسقي).
(٢) في [هـ]: (إني).