٣٦٩٨٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبي الدرداء قال: مات ابن (لسليمان) (١) (بن داود) (٢) فوجد عليه وجدا شديدا حتى عرف ذلك فيه وفي قضائه، ⦗٢٣٨⦘ (فبرز) (٣) ذات يوم (ملكان) (٤) بين (يديه للخصوم) (٥) فقال أحدهما: إني بذرت بذرًا، حتى إذا اشتد واستحصد مر هذا به (أفسده) (٦)، فقال للآخر: ما تقول؟ فقال: صدق، أخذت الطريق فأتيت على زرع فنظرت يمينا وشمالا، فإذا الطريق عليه فأخذت عليه، فقال سليمان للآخر: (لم) (٧) بذرت على الطريق؟ أما علمت أن مأخذ الناس على الطريق؟ فقال: يا سليمان فلم تحزن على ابنك وأنت تعلم أنك ميت، وأن سبيل الناس إلى الآخرة؟ (٨).حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹے فوت ہوگئے تو آپ علیہ السلام نے اس پر شدید رنج و غم محسوس کیا۔ حتی کہ ان کی شخصیت اور فیصلوں میں بھی اس کا اثر محسوس کیا گیا۔ چناچہ ایک دن جب آپ (مجلسِ قضا میں) تشریف لائے تو دو فرشتے (انسانوں کی شکل میں) آپ کی خدمت میں ایک جھگڑے کے تصفیہ کے لئے حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک بولا : میں نے بیج بویا، جب وہ پک کر کاٹنے کے قابل ہوگیا تو یہ (دوسرا شخص) وہاں سے گزرا اور اس کو برباد کر گیا۔ آپ علیہ السلام نے دوسرے سے دریافت فرمایا : تم کیا کہتے ہو ؟ تو اس نے جواب دیا : یہ سچ کہتا ہے۔ میں راستے پر جا رہا تھا کہ اس کے کھیت پر جا پہنچا، میں نے دائیں بائیں دیکھا مگر راستہ وہی تھا (جس پر اس نے کھیت اگا رکھا تھا) ، چناچہ میں اس (کے کھیت) میں ہی چل پڑا (تو وہ خراب ہوگیا) ۔ (یہ سنا) تو سلیمان علیہ السلام نے پہلے شخص سے دریافت فرمایا : تم نے راستے میں کیوں بیج بو دیا تھا ؟ کیا تمہیں نہیں معلوم تھا کہ لوگوں نے تو راستے پر سے ہی گزرنا ہوتا ہے ؟ اس پر اس شخص نے جواب دیا : اے سلیمان (علیہ السلام ) ! (اگر ایسا ہے) تو تم کیوں اپنے بیٹے پر (اتنا زیادہ) غمگین ہوتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو کہ ایک دن تم بھی مرنے والے ہو، اور یہ (بھی جانتے ہو) کہ تمام لوگ آخرت کی جانب ہی رواں دواں ہیں۔