حدیث نمبر: 36985
٣٦٩٨٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش عن (خيثمة) (١) قال: دخل ملك الموت إلى سليمان فجعل ينظر إلى رجل من جلسائه يديم النظر إليه، فلما خرج قال الرجل: من هذا؟ قال: هذا ملك الموت، قال: رأيته ينظر إلي كأنه يريدني، قال: فما تريد؟ قال: أريد أن تحملني على الريح حتى تلقيني بالهند، قال: فدعا (بالريح) (٢) فحمله عليها فألقته في الهند، ثم أتى ملك الموت سليمان فقال: إنك ⦗٢٣٧⦘ كنت تديم النظر إلى رجل من جلسائي؟ قال: كنت أعجب منه، أمرت أن أقبضه بالهند وهو عندك.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت خیثمہ کہتے ہیں : موت کا فرشتہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا اور آپ علیہ السلام کے ہم نشینوں میں سے ایک کی جانب ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا۔ جب وہ (وہاں سے) چلا گیا تو اس آدمی نے عرض کیا : یہ کون تھا ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا : یہ موت کا فرشتہ تھا۔ اس نے کہا : مجھے تو وہ یوں میری جانب گھورتا دکھائی دیا کہ بس مجھے ہی لے جانے کا ارادہ ہو۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا : تو تم کیا چاہتے ہو ؟ اس نے عرض کیا : میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے دوش ہوا پر ملک ہندو ستان پہنچا دیں۔ راوی کہتے ہیں : آپ علیہ السلام نے ہوا کو حکم کیا تو ہوا نے اس شخص کو اٹھا کر ملک ہندوستان میں لے جا ڈالا۔ پھر موت کا فرشتہ (دوبارہ) حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا تو آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا : تم (کیوں) میرے ہمنشینوں میں سے ایک آدمی کو گھورے جا رہے تھے۔ موت کے فرشتے نے کہا : مجھے اس پر تعجب ہو رہا تھا، (کیونکہ) مجھے تو حکم ہوا تھا کہ اس کی روح ہندوستان میں قبض کرنی ہے اور وہ آپ کے پاس (بیٹھا) تھا۔

حواشی
(١) في [ب، س]: (خثيمة).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (الريح).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36985
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36985، ترقيم محمد عوامة 35409)