حدیث نمبر: 36984
٣٦٩٨٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش عن (خيثمة) (١) قال: (أتى) (٢) ملك الموت سليمان بن داود، وكان له صديقا، فقال له سليمان: مالك تأتي أهل البيت (فتقبضهم) (٣) جميعا وتدع أهل البيت إلى جنبهم لا تقبض منهم أحدا، قال: (ما أعلم) (٤) بما أقبض (منها) (٥) إنما أكون تحت العرش فتلقى إلى صكاك فيها أسماء.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت خیثمہ کہتے ہیں : حضرت سلیمان بن داؤد i کے پاس موت کا فرشتہ حاضر ہوا ، اور آپ علیہ السلام کا اس سے دوستی کا تعلق تھا۔ تو آپ نے اس سے فرمایا : تم عجیب ہو ! ایک گھر میں آتے ہو اور تمام اہل خانہ کی ارواح قبض کرلیتے ہو، جبکہ ان کے پہلو (میں موجود گھر) کے اہل خانہ کو (زندہ سلامت) چھوڑ دیتے ہو، ان میں سے ایک کی بھی روح قبض نہیں کرتے (یہ کیا ماجرا ہے) ؟ موت کے فرشتہ نے (جواب میں) عرض کیا : مجھے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ مجھے کس کی روح قبض کرنی ہے۔ میں تو عرش کے نیچے (دست بستہ) ہوتا ہوں، تو ایک پرچی میری جانب گرادی جاتی ہے ، اس میں (ان لوگوں کے) نام درج ہوتے ہیں (جن کی مجھے روح قبض کرنا ہوتی ہے) ۔

حواشی
(١) في [ب، س]: (خثيمة).
(٢) في [أ]: (أتا).
(٣) في [ي]: (لتقبضهم).
(٤) في [أ، ب]: (لا أعلم).
(٥) في [جـ]: (منك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36984
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36984، ترقيم محمد عوامة 35408)