٣٦٩٧٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد (عن الحسن) (١) عن الأحنف بن قيس عن ((النبي) (٢) ﷺ قال: "إن داود) (٣) ﵇ (٤) قال: يا رب إن بني إسرائيل يسألونك بإبراهيم وإسحاق ويعقوب، فاجعلني يا رب لهم رابعا، (قال) (٥): فأوحى (اللَّه) (٦) إليه (٧) يا داود إن إبراهيم ألقي في النار (في شيء) (٨) فصبر، (٩) وتلك بلية لم تنلك، وإن إسحاق بذل (مهجة دمه في شيء) (١٠) فصبر (١١)، (وتلك) (١٢) بلية لم (تنلك) (١٣)، [وإن يعقوب أخذت حبيبه حتى أبيضت عيناه (فصبر) (١٤)، وتلك بلية لم تنلك] (١٥) " (١٦).حضرت احنف بن قیس نبی اکرم علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک داؤد علیہ السلام نے فرمایا : اے میرے رب ! بیشک بنی اسرائیل آپ سے ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب ۔ (تین نبیوں) کے وسیلہ سے سوال کرتے ہیں ، تو آپ مجھے بھی ان کے ساتھ چوتھا بنا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف (یہ) وحی نازل فرمائی : اے داؤد ! ابراہیم کو میری (توحید بیان کرنے کی) وجہ سے آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے (اس پر) صبر کیا، اور آپ اس امتحان سے نہیں گزرے۔ اسحق 1 کو میری (رضا کی) خاطرنذرانہ جان پیش کرنا پڑا، تو انہوں نے (بھی اس پر) صبر کیا، اور آپ پر یہ آزمائش نہیں آئی۔ اور یعقوب ان کے تو محبوب کو میں نے ان سے جدا کئے رکھا ، یہاں تک کہ (رو رو کر) ان کی آنکھوں میں سفیدی اتر آئی، تو انہوں نے (بھی اس پر) صبر کیا، اور آپ سے یہ ابتلا (بھی) دور رہی۔