٣٦٩٦٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: لما أصاب داود الخطيئة، وإنما كانت خطيئته أنه لما (أبصر) (١) (أمر بها) (٢) (فعزلها) (٣) فلم يقربها، فأتاه الخصمان (فتسورا) (٤) في المحراب، فلما أبصرهما قام إليهما فقال: أخرجا ⦗٢٢٩⦘ عني، ما جاء بكما إلي؟ قال: (فقالا) (٥): إنما نكلمك بكلام يسير، إن هذا أخي له تسع وتسعون نعجة (ولي نعجة) (٦) واحدة، وهو يريد أن (يأخذها) (٧) مني، فقال داود: واللَّه (إنه) (٨) (أحق) (٩) أن يُكسر منه من لدن (هذا) (١٠) إلى (هذا) (١١) -يعني من أنفه إلى صدره- قال: فقال الرجل: فهذا داود قد فعله، فعرف داود (أنه) (١٢) إنما يعنى (بذلك) (١٣)، وعرف ذنبه فخر ساجدا أربعين يوما وأربعين ليلة، وكانت خطيئته مكتوبة في يده، ينظر إليها لكيلا يغفل حتى (نبت البقل) (١٤) حوله من دموعه، ما غطى رأسه فنادى بعد أربعين يومًا: (قرح) (١٥) الجبين (وجمدت) (١٦) العين، وداود لم يُرجع إليه في خطيئته (بشيء) (١٧)، فنودي أجائع (١٨) فتطعم، أو عريان فتكسى، (أو) (١٩) مظلوم فتنصر، قال: فنحب نحبة هاج (ما) (٢٠) ثم من البقل حين لم يذكر ⦗٢٣٠⦘ ذنبه، فعند ذلك غفر له، فإذا كان يوم القيامة قال له ربه: كن أمامي، فيقول: أي رب ذنبي ذنبي، فيقول (اللَّه) (٢١) له: كن (من) (٢٢) خلفي، فيقول: أي رب ذنبي ذنبي، قال: فيقول له: خذ بقدمي فيأخذ بقدمه.حضرت مجاہد کہتے ہیں : جب داؤد علیہ السلام سے لغزش ہوئی ، اور ان کی لغزش کا بھی یہ عالم تھا کہ جونہی آپ کو اس کا احساس ہوا ، آپ نے اسے ناپسند فرمایا اور ترک کردیا، اور دوبارہ کبھی اس کے قریب بھی نہ گئے ، تو ان کے پاس دو جھگڑنے والے (اپنا جھگڑا لے کر) آئے، اور دیوار پھلانگ کر عبادت گاہ میں جا گھسے۔ جب آپ نے انہیں دیکھا تو ان کی طرف بڑھے اور فرمایا : چلے جاؤمیرے پاس سے ، کس لئے یوں اندر چلے آئے ؟ راوی کہتے ہیں : انہوں نے جواب دیا : ہم آپ سے چھوٹی سی بات کریں گے، یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے بھیڑیں ہیں اور میرے پاس (صرف) ایک بھیڑ ہے اور یہ چاہتا ہے کہ وہ (ایک بھیڑ) بھی مجھ سے ہتھیا لے۔ اس پر داؤد علیہ السلام نے فرمایا : بخدا یہ اس لائق ہے کہ اسے یہاں سے یہاں تک۔ یعنی ناک سے سینے تک۔ چیر دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں : اس آدمی نے کہا : یہ ہیں داؤد جنہوں نے (اتنی آسانی سے فیصلہ) کر بھی دیا۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے کہ انہیں تنبیہ کی گئی ہے، اور اپنی خطا کو بھی پہچان گئے۔ چناچہ آپ چالیس دن اور چالیس راتیں سجدے میں پڑے رہے، اور وہ لغزش آپ کے دست مبارک پر یوں تحریر تھی کہ آپ اسے دیکھتے رہتے، تاکہ غافل نہ ہوجائیں۔ (آہ وزاری کا یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ آپ کے ارد گرد اتنا بلند سبزہ اگ آیا جس نے آپ کے سر کو بھی ڈھانپ لیا۔ چالیس دن کے بعد آپ پکار اٹھے : پیشانی زخم زدہ ہوگئی، آنکھیں خشک ہو کر رہ گئیں، لیکن داؤد کے قضیے کی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس پر ندا سنائی دی : کیا بھوکا ہے کہ تجھے کھانا کھلایا جائے، کیا بےلباس ہے کہ تجھے لباس پہنایا جائے ، کیا مظلوم ہے کہ تیری مدد کی جائے۔ راوی کہتے ہیں : جب آپ نے دیکھا کہ (اس ندا میں) آپ کی خطا کا ذکر بھی نہیں کیا گیا تو آپ ایسی شدت سے روئے کہ آس پاس اگا ہوا سبزہ بھی خشک ہوگیا۔ (جب داؤد علیہ السلام کی یہ حالت ہوگئی) تو اس وقت آپ کی لغزش معاف فرما دی گئی۔ بس جب قیامت کا دن آئے گا تو ان کے ربِ ذوالجلال ان سے فرمائیں گے : میرے سامنے کھڑے ہوجائیے۔ تو آپ عرض کریں گے : اے میرے پروردگار میرا گناہ (اس سے مانع ہے) میرا گناہ۔ اللہ جلّ شانہ فرمائیں گے : میرے پیچھے کھڑے ہوجائیے۔ تو آپ (پھر) عرض کریں گے : اے میرے پالنہار میرا گناہ (مجھے حیا دلاتا ہے) میرا گناہ۔ اس پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرمائیں گے : میرے قدموں میں آجائیے۔ تو آپ علیہ السلام قدموں میں آجائیں گے۔