٣٦٩٥٣ - حدثنا محمد بن بشر العبدي عن إسماعيل بن أبي خالد (قال) (١): حدثني رجل قبل الجماجم من أهل المساجد قال: أخبرت أن عيسى ﵇ (٢) كان يقول: اللهم أصبحت لا أملك لنفسي ما أرجو، ولا أستطيع عنها دفع ما أكره، وأصبح الخير بيد غيري، وأصبحت مرتهنا بما كسبت، فلا فقير أفقر مني، فلا تجعل مصيبتي في ديني، ولا تجعل الدنيا (أكبر) (٣) همي، ولا تسلط علي من لا يرحمني.حضرت اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں : اہلِ مساجد کے سرداروں سے پہلے مجھے ایک شخص نے یہ بات سنائی۔ اس نے کہا : مجھے خبر ملی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! میرا یہ حال ہے کہ میں اپنے لئے جو چیز چاہتا ہوں اسے حاصل کرنے پر قادر نہیں ہوں، اور نہ ہی جو چیز مجھے بری لگتی ہے اسے خود سے دور کرنے کی استطاعت رکھتا ہوں۔ تمام مال و متاع میرے غیروں کے پاس چلا گیا ہے، اور جو کچھ میں نے کمایا ہے وہ بھی میرے پاس بطور امانت ہے۔ خلاصہ یہ کہ کوئی فقیر مجھ سے زیادہ حاجت مند نہیں ہے۔ بس تو مجھے میرے دین کے معاملے میں مت آزما، اور دنیا کو میرا مقصد اصلی مت بنا، اور مجھ پر کوئی ایسا شخص مسلط مت فرما جو مجھ پر رحم نہ کرے۔