٣٦٩٥١ - (حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي ثمامة قال) (١): (قال) (٢) الحواريون: يا عيسى ما الإخلاص للَّه؟ قال: أن يعمل الرجل العمل لا يحب أن (يحمده) (٣) عليه أحد من الناس، والمناصح للَّه الذي يبدأ بحق اللَّه قبل حق الناس، (يؤثر حق اللَّه على حق الناس) (٤)، وإذا عرض أمران: أحدهما للدنيا، والآخر للآخرة، بدأ بأمر الآخرة قبل (أمر) (٥) (الدنيا) (٦).حضرت ابو ثمامہ کہتے ہیں : (عیسیٰ علیہ السلام کے) انصار نے عرض کیا : اے عیسیٰ (علیہ السلام ) اللہ تعالیٰ کے لئے کسی چیز کو خالص کردینے کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا : آدمی کا اس حالت میں عمل کرنا کہ وہ یہ بات پسند نہ کرتا ہو کہ اس کے اس عمل پر لوگوں میں سے کوئی اس کی تعریف کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوجانے والا شخص وہ ہے جو لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں لگنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے، اور اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر ترجیح دے۔ اور جب اس کے پیش نظر دو کام آجائیں ، ان میں سے ایک دنیا (کے فائدے) کے لئے ہو اور دوسرا آخرت (کے فائدے) کے لئے ہو تو وہ آخرت (کے فائدے) کے کام کو دنیا (کے فائدے) کے کام سے پہلے سر انجام دے۔