٣٦٩٣٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير وأبو أسامة عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس عن عبد اللَّه قال: بينما رجل ممن كان قبلكم كان في قوم كفار، وكان فيما بينهم قوم صالحون، قال: (فطالما) (١) كنت في كفري (هذا) (٢) (لآتين) (٣) هذه القرية الصالحة، فأكونن رجلا من أهلها، فانطلق فأدركه الموت فاحتج فيه الملك والشيطان، يقول: هذا أنا أولى به، ويقول: هذا أنا أولى به، إذ (قيض) (٤) اللَّه (لهما) (٥) بعض جنوده فقال لهما: قيسوا ما بين القريتين، فأيتهما كان أقرب إليها فهو من أهلها، فقاسوا ما بينهما فوجدوه أقرب إلى القرية الصالحة فكان منهم (٦).حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ تم سے پہلی امت میں ایک شخص کفار کی قوم میں تھا، اور ان میں کچھ نیک لوگ بھی تھے اس شخص نے کہا : میں ضرور اس نیک بستی میں آؤں گا تاکہ میں بھی نیکوں کاروں میں سے ہوجاؤں وہ اس بستی میں جانے کیلئے چلا تو اس کو موت آگئی، اس کے متعلق فرشتہ اور شیطان کا جھگڑا ہوگیا ایک کہنے لگا میں اس کا زیادہ مستحق ہوں اور دوسرا کہنے لگا کہ میں زیادہ مستحق ہوں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان اپنے بعض لشکر کے ذریعہ فیصلہ فرمایا اس نے ان سے کہا کہ دونوں بستیوں کا فاصلہ ماپ لو جس بستی کے قریب ہوگا اسی میں سے شمار ہوگا انہوں نے اس کا درمیانی فاصلہ ناپا تو اس کو نیکو کاروں کی بستی کے قریب پایا پس وہ انہی میں سے ہوگیا۔