٣٦٩٣٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن أبي سنان عن يعقوب بن (سفيان) (١) (اليشكري) (٢) عن عبد اللَّه بن مسعود قال: أتاه رجل قد ألم بذنب فسأله عنه فلهى عنه، [وأقبل على القوم (يحدثهم) (٣) فحانت (إليه) (٤) نظرة من عبد اللَّه فإذا عين ⦗٢١٥⦘ الرجل تهراق، فقال: هذا (أوان همك) (٥) ما جئت تسألني عنه] (٦)، إن للجنة سبعة أبواب كلها يفتح ويغلق غير باب التوبة، موكل به ملك فاعمل ولا تيأس (٧).حضرت ابن مسعود کے پاس ایک شخص اپنے گناہوں کی شکایت لے کر حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق دریافت کیا حضرت ابن مسعود نے اس کی طرف توجہ نہ فرمائی اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے گفتگو فرمانے لگے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی نظر اس پر پڑی تو وہ رو رہا تھا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ جس مقصد کے لیے تو آیا تھا اب اس کا وقت آگیا ہے۔ جنت کے سات دروازے ہیں جن میں ہر ایک دروازہ بند ہوتا اور کھلتا ہے، سوائے توبہ کے دروازے کے۔ اس پر ایک فرشتہ مقرر ہے۔ تو عمل کرتا رہ اور مایوس نہ ہو۔