حدیث نمبر: 36927
٣٦٩٢٧ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه قال: حدثنا أبو عثمان عن أبي بردة قال: لما حضر أبا موسى الوفاة قال: يا بني اذكروا صاحب الرغيف قال: كان رجل يتعبد في (صومعة) ((١) عليه اثنا عشر مسكينا، (فأدركه) (٢) الإعياء فرمى بنفسه بين رجلين منهم. وكان ثم (راهب) (٣) يبعث إليهم كل ليلة بأرغفة، فيعطي كل إنسان رغيفا، فجاء صاحب الرغيف فأعطى كل إنسان رغيفا، (ومر) (٤) على ذلك الذي خرج تائبا، فظن أنه مسكين فأعطاه رغيفا، فقال (المتروك) (٥) لصاحب الرغيف: مالك، لم تعطني رغيفي؟ ما كان (لك) (٦) (عنه) (٧) غنى، قال: تراني أمسكه عنك، سل: هل أعطيت أحدا منكم رغيفين؟ قالوا: لا، قال: إني أمسك عنك، واللَّه لا أعطيك شيئا الليلة، قال: فعمد التائب إلى الرغيف الذي دفعه إليه، فدفعه إلى الرجل الذي ترك، فأصبح التائب ميتًا، قال: فوزنت السبعون سنة بالسبع الليالي فلم (تزن) (٨)، قال: فوزن الرغيف بالسبع الليالي، قال: فرجح الرغيف، فقال أبو موسى: يا بني اذكروا صاحب الرغيف (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت ابو موسیٰ کا وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا اے میرے بیٹو ! روٹی والے شخص کو یاد کرو ایک شخص تھا جو اپنے گرجے میں ستر سال سے عبادت کرتا رہا پھر وہ ایک دن اترا تو شیطان اس کی آنکھوں میں عورت کے مشابہ بن کر آیا وہ اس کے ساتھ سات دن اور سات راتیں بدکاری کرتا رہا پھر اس پر اس کی غلطی ظاہر ہوئی تو وہ توبہ کرنے کیلئے نکل پڑا جب بھی قدم اٹھاتا تو نماز پڑھتا اور سجدہ کرتا اور رات کو ایک دکان میں ٹھکا نہ پکڑا جس میں بارہ مسکین تھے وہ بہت زیادہ تھک گیا تھا اس نے اپنے آپ کو دو شخصوں کے درمیان ڈال دیا۔ وہاں ایک راہب تھا جو ہر روز ان کی طرف ایک روٹی بھیجتا تھا اور ہر شخص کو ایک روٹی دیتا تھا پھر وہ روٹی والا آیا اور اس نے ہر شخص کو ایک روٹی دی اور اس شخص کے پاس سے بھی گزرا جو توبہ کرنے کیلئے گرجا سے نکلا تھا اس نے خیال کیا کہ وہ بھی مسکین ہے اس کو بھی روٹی دے دی ان میں سے ایک شخص نے جس کو چھوڑ دیا گیا تھا روٹی والے سے کہا کیا ہوا کہ تم نے میری روٹی مجھے نہ دی ؟ اس نے کہا کہ پوچھو کیا میں نے تم میں سے کسی کو دو روٹیاں دی ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں اس نے کہا کہ میں نے تجھ سے روک لیا ہے خدا کی قسم آج رات تجھے کچھ نہ دوں گا، توبہ کرنے والے شخص نے روٹی کی طرف ارادہ کیا جو اس کو دی گئی تھی وہ اس نے اس کو دے دی جس کو چھوڑ دیا گیا تھا، صبح کو وہ توبہ کرنے والا شخص مردہ پایا گیا، اس کے ستر سالوں کی نیکیوں کو ان سات راتوں کے گناہ کے ساتھ تولا گیا تو وہ نہ وزن ہوئیں، پھر اس روٹی کو ان سات راتوں کے ساتھ وزن کیا گیا تو روٹی والا پلڑا جھک گیا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اس روٹی والے کو یاد کرو۔

حواشی
(١) ٧) أراه قال: سبعين سنة، لا ينزل إلا في يوم أحد، قال: فنزل في يوم أحد، قال: فشبه أو شب الشيطان في عينه امرأة، فكان معها سبعة أيام (و) (٨) سبع ليال، قال: ثم كشف عن الرجل غطاؤه فخرج تائبا، فكان كلما خطا
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36927
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36927، ترقيم محمد عوامة 35353)