حدیث نمبر: 36926
٣٦٩٢٦ - حدثنا عمر بن سعد عن سفيان عن (٣) سلمة عن أبي الزعراء عن عبد اللَّه أن راهبا عبد اللهَ في (صومعته) (٤) ستين سنة، فجاءت امرأة فنزلت إلى جنبه فنزل إليها فواقعها ست ليال، ثم سُقِط في يده فهرب فأتى مسجدا فأوى إليه فمكث ثلاثًا لا يطعم شيئا، فأتى برغيف فكسر نصفه فأعطى نصفه (رجلا) (٥) عن يمينه، وأعطى آخر عن يساره، فبعث اللَّه إليه ملك الموت فقبض روحه، فوضع عمل الستين سنة في كفة ووضع السيئة في كفة، فرجحت السيئة، ثم جيء بالرغيف فرجح بالسيئة (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ عبد اللہ نامی ایک راہب تھا جو ساٹھ سال تک اپنے گرجے میں عبادت کرتا رہا، ایک خاتون اس کے پڑوس میں آئی اس راہب نے اس کے ساتھ چھ راتیں بدکاری کی پھر وہ بھاگ کر مسجد چلا گیا اور وہاں پر ٹھکانہ پکڑ لیا تین دن گزر گئے اس نے کچھ نہ کھایا اس کے پاس ایک روٹی لائی گئی اس نے اس کو دو حصے کر کے آدھی روٹی اپنے دائیں شخص کو دے دی اور آدھی بائیں شخص کو دے دی اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو بھیجا جس نے اس کی روح قبض کرلی اس کا ساٹھ سالوں کا عمل ایک ترازو میں رکھا گیا اور اس کے گناہوں کو دوسرے پلڑے میں رکھا تو گناہوں والا پکڑا جھک گیا پھر وہ روٹی رکھی گئی تو وہ پلڑا گناہوں والے پلڑے سے بھاری ہوگیا۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36926
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36926، ترقيم محمد عوامة 35352)