٣٦٩٢٤ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن عبد اللَّه بن عبد اللَّه عن سعد مولى طلحة عن ابن عمر قال: بينا رجل يقال له: الكفل يعمل بالمعاصي، فأعجبته امرأة فأعطاها (خمسين) (١) دينارا، فلما قعد منها مقعد (الرجل) (٢) ارتعدت، فقال لها: مالك؛ قالت: هذا عمل ما عملته قط، قال: أنت تجزعين من هذه الخطيئة، وأنا أعمله مذ كذا وكذا، واللَّه لا أعصي اللَّه أبدا، قال: فمات من ليلته فلما أصبح بنو إسرائيل (قال) (٣): من يصلي على فلان؟ قال ابن عمر: فوجد مكتوبا على بابه قد غفر اللَّه للكفل (٤).حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص تھا گنہگار جس کا نام الکفل تھا۔ اس کو ایک خاتون اچھی لگی تو اس نے اس کو پچاس دینار دئیے جب وہ اس سے غلط کام کا ارادہ کرنے لگا تو وہ خاتون کانپنے لگی الکفل نے پوچھا تجھے کیا ہوا ہے ؟ خاتون نے کہا کہ یہ وہ عمل ہے جو میں نے پہلے کبھی نہیں کیا کفل نے کہا کہ تو اس گناہ کو کرنے سے عاجز ہے جب کہ میں اتنی اتنی مدت سے یہ کر رہا ہوں ! خدا کی قسم میں آج کے بعد کبھی گناہ نہ کروں گا پھر اسی رات اس کا انتقال ہوگیا جب صبح ہوئی تو بنی اسرائیل کے لوگ کہنے لگے کہ فلاں کا جنازہ کون پڑھے گا ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے دروازے پر لکھا ہوا پایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کفل کی مغفرت فرما دی ہے۔