مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر فيما أعد لأهل النار وشدته باب: جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
حدیث نمبر: 36907
٣٦٩٠٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا سعيد بن زيد قال: سمعت أبا سليمان العصري قال: حدثني عقبة بن صُهْبان قال: سمعت أبا (بكرة) (١) عن النبي ﷺ قال: "يحمل الناس على الصراط يوم القيامة فتقادع بهم (جنبتا) (٢) الصراط تقادع الفراش في النار قال: (فيتحنن) (٣) اللَّه برحمته على من يشاء، قال: ثم يؤذن للملائكة والنبيين والشهداء أن يشفعوا، فيشفعون ويخرجون، ويشفعون ويخرجون، (ويشفعون ويخرجون) (٤) من ⦗٢٠٦⦘ كان في قلبه (ما يزن) (٥) ذرة من ايمان" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو قیامت کے دن پل صراط پر لایا جائے گا۔ لوگ اس پر سے یوں آگ میں گریں گے جیسے پروانے آگ میں گرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے گا اپنی رحمت فرمائے گا۔ پھر فرشتوں، نبیوں اور شہداء سے کہا جائے گا کہ سفارش کرو۔ وہ سفارش کریں گے اور جہنمیوں کو جہنم سے نکالیں گے۔ پھر سفارش کریں گے پھر نکالیں گے۔ پھر سفارش کریں گے پھر نکالیں گے۔ پھر ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔
حواشی
(١) في [ب، جـ]: (تكر)، وفي [أ]: (بكر).
(٢) في [أ]: (جبنا).
(٣) في [هـ]: (فتحنن).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [أ، ب]: مكررة.