حدیث نمبر: 36906
٣٦٩٠٦ - حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق قال: حدثني عبيد اللَّه بن المغيرة عن سليمان بن عمرو بن عبد العتواري (أحد بني) (١) ليث وكان في حجر أبي سعيد الخدري عن أبي سعيد الخدري قال: سمعته يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "يوضع الصراط بين ظهراني جهنم عليه (حسك كحسك) (٢) السعدان، ثم (يستجيز) (٣) الناس فناج مسلم و (مخدوج) (٤) به ثم (ناج) (٥) (و) (٦) محتبس (٧) منكوس فيه، فإذا فرغ اللَّه من القضاء بين العباد (يفقد) (٨) المؤمنون رجالا كانوا في (الدنيا) (٩) كانوا يصلون صلاتهم ويزكون زكاتهم ويصومون صيامهم ويحجون حجهم ويغزون غزوهم فيقولون: أي ربنا، عباد من عبادك، كانوا معنا في (الدنيا) (١٠)، يصلون صلاتنا ويزكون زكاتنا ويصومون صيامنا ويغزون غزونا لا نراهم، قال: فيقول: اذهبوا إلى النار فمن وجدتم فيها فأخرجوه منها، (فيجدونهم) (١١) قد ⦗٢٠٥⦘ أخذتهم النار على قدر أعمالهم، فمنهم من أخذته إلى قدميه، ومنهم من أخذته إلى نصف ساقيه، (ومنهم من أخذته إلى ركبتيه، ومنهم من أزرته، ومنهم من أخذتهم إلى ثديه) (١٢)، ومنهم من أخذته إلى عنقه ولم يغش الوجه، فيطرحونهم في ماء الحياة"، قيل يا رسول اللَّه وما ماء الحياة؟ قال: "غسل أهل الجنة، فينبتون كما تنبت الزريعة في (غثاء) (١٣) السيل، ثم يشفع الأنبياء فيمن كان يشهد أن لا إله إلا اللَّه مخلصا، ثم يتحنّنُ (اللَّه) (١٤) برحمته على من فيها، فما يترك فيها عبدا في قلبه مثقال حبة من (ايمان) (١٥) إلا أخرجه منها" (١٦)
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائے گا۔ اس میں سعدان نامی بوٹی جیسے کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگ اسے عبور کرنا شروع کریں گے۔ بعض لوگ تو سلامتی کے ساتھ نجات پالیں گے۔ بعض ایسے ہوں گے جو اس سے مل کر نجات پالیں گے۔ بعض ایسے ہوں گے جو اس میں قید کرلیے جائیں گے اور اس میں پھینک دیے جائیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے حساب سے فارغ ہوجائے گا تو اہل ایمان کو کچھ ایسے لوگ نظر نہ آئیں گے جو دنیا میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ زکوٰۃ دیا کرتے تھے۔ روزے رکھا کرتے تھے، حج کرتے تھے اور جہاد کیا کرتے تھے۔ مومن کہیں گے : اے ہمارے رب ! آپ کے بعض بندے ایسے ہیں جو دنیا میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ زکوٰۃ دیا کرتے تھے۔ روزے رکھا کرتے تھے، حج کرتے تھے اور جہاد کیا کرتے تھے۔ لیکن اب وہ ہمیں نظر نہیں آ رہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم جہنم کی طرف جاؤ، تمہیں ان میں سے جو نظر آئے اسے نکال لو۔ وہ جہنم کی طرف جائیں گے تو آگ نے لوگوں کو ان کے اعمال کے بقدر پکڑ رکھا ہوگا۔ بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کے قدموں تک آگ ہوگی، بعض کی آدھی پنڈلیوں تک آگ ہوگی۔ بعض کے گھٹنوں تک، بعض کے پیٹ تک، بعض کے سینوں تک اور بعض کی گردن تک آگ میں لپٹا ہوگا۔ پھر انہیں آبِ حیات میں ڈالا جائے گا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آبِ حیات کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ پانی جس سے اہل جنت غسل کرتے ہوں گے۔ پھر وہ یوں اگ آئیں گے جیسے پانی میں کھیتی اگتی ہے۔ پھر انبیاء ان لوگوں کی شفاعت کریں گے جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہا ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت مزید اہل جہنم پر فرمائیں گے اور ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لیں گے جس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (حدثني)، وفي [هـ]: (جد بني).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (حسل كحسل).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (يستجى).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (محدوح).
(٥) في [أ، ب، جـ]: (ناح).
(٦) سقط من [هـ]: (و).
(٧) في [هـ]: زيادة (به و).
(٨) في [أ، ب]: (تفقد).
(٩) في [أ]: (الدني).
(١٠) في [أ]: (الدني).
(١١) في [أ، ب، جـ]: (فيجددنهم)، وفي [هـ]: (فيجدون).
(١٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(١٣) في [أ، ب]: (عثاء).
(١٤) في [ب]: زيادة.
(١٥) في [هـ]: (الإيمان).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36906
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق، أخرجه أحمد (١١٠٨١)، وابن ماجه (٤٢٨٠)، والحاكم ٤/ ٥٨٥، والطبري ١٦/ ١١٣، وابن خزيمة في التوحيد (ص ٣٢٥)، والمروزي في زيادات زهد ابن المبارك (١٢٦٨)، وأصله في البخاري (٤٥٨١)، ومسلم (١٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36906، ترقيم محمد عوامة 35332)