مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر فيما أعد لأهل النار وشدته باب: جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
٣٦٨٩٧ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا الأزرق ابن (قيس) (١) قال: حدثني رجل من بني تميم قال: كنا عند أبي العوام فقرأ هذه الآية ﴿تِسْعَةَ عَشَرَ﴾ [المدثر: ٣٠] فقال: ما تقولون: (أتسعة) (٢) عشر ألف ملك أو تسعة عشر ملكا؟ قال: فقلت لا، بل تسعة عشر ملكًا قال: ومن أين تعلم ذلك؟ فقلت: لأن اللَّه يقول: ﴿وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [المدثر: ٣١] قال: صدقت بيد كل ملك مرزبة من حديد لها شعبتان فيضرب الضربة (فهوى) (٣) بها سبعين ألف (ملك) (٤) ما بين منكبي كل (ملك) (٥) منهم مسيرة كذا وكذا.بنو تمیم کے ایک شخص سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم ابو عوام کے پاس تھے انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی { عَلَیْہَا تِسْعَۃَ عَشَرَ } اور فرمایا تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ انیس ہزار فرشتے ہیں یا صرف انیس ؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا انیس انہوں نے دریافت فرمایا تمہیں کہاں سے معلوم ہوا ؟ میں نے عرض کیا کہ اس لیے کہ اللہ فرماتے ہیں { وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ إِلاَّ فِتْنَۃً لِلَّذِینَ کَفَرُوا } انہوں نے فرمایا کہ تو نے ٹھیک کہا ہر فرشتہ کے ہاتھ میں ایک ہتھوڑا ہے جو لوہے کا ہے اور اس کے دو کونے ہیں وہ اس سے ایک مرتبہ مارتا ہے تو اس سے ستر ہزار فرشتے گرتے ہیں ہر فرشتے کے دو کندھوں کے درمیان اتنی اتنی مسافت ہوتی ہے۔