مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر فيما أعد لأهل النار وشدته باب: جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
٣٦٨٩٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير (قال) (١): حدثنا فضيل بن غزوان عن محمد الراسبي عن بشر بن عاصم قال: كتب عمر بن الخطاب (عهد بشر) (٢) بن عاصم فقال: لا حاجة لي فيه إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن الولاة (يجاء) (٣) بهم يوم القيامة (فيوقفون) (٤) على جسر جهنم، فمن كان مطواعا للَّه تناوله اللَّه بيمينه حتى ينجيه، ومن كان عاصيا للَّه (انحرف) (٥) به الجسر إلى واد من نار يلتهب التهابًا"، قال: فأرسل عمر إلى سلمان وأبي ذر فقال لأبي ذر: أنت سمعت هذا الحديث من رسول اللَّه ﷺ؟ قال: نعم واللَّه، وبعد الوادي واد آخر من نار، قال: وسأل سلمان فلم يخبر بشيء، فقال عمر: من يأخذها بما فيها؟ فقال: أبو ذر: من ⦗٢٠١⦘ سلب اللَّه (أنفه) (٦) وعينيه و (أضرع) (٧) خده إلى الأرض (٨).حضرت محمد راسبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت بشر بن عاصم کو گورنری سونپی تو حضرت بشر نے لکھا کہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حکمرانوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور جہنم کے پل پر کھڑا کیا جائے گا۔ اللہ کے فرماں بردار حکمران کو اللہ تعالیٰ نجات عطا کرے گا اور نافرمان کو جہنم کی وادی میں جلنے کے لیے ڈال دیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو حضرت سلمان نے لاعلمی کا اظہار فرمایا اور حضرت ابوذر نے کہا کہ ہاں میں اس حدیث کو جانتا ہوں۔ اور جہنم کی ایک وادی اور بھی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس میں کس کو ڈالا جائے گا۔ حضرت ابوذر نے فرمایا کہ جس کے ناک اور آنکھوں کو اللہ نے خاک آلود کیا اور اس کے رخسار کو زمین پر مل دیا۔