مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر فيما أعد لأهل النار وشدته باب: جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
٣٦٨٨٩ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن (حسان) (١) بن أبي المخارق عن أبي عبد اللَّه الجدلي قال: أتيت بيت المقدس فإذا عبادة بن الصامت وعبد اللَّه بن عمرو (و) (٢) كعب الأحبار يتحدثون في بيت المقدس، قال: فقال عبادة: إذا كان يوم القيامة جمع الناس في صعيد واحد فينفذهم البصر ويسمعهم الداعي ويقول اللَّه: ﴿هَذَا يَوْمُ الْفَصْلِ جَمَعْنَاكُمْ وَالْأَوَّلِينَ (٣٨) فَإِنْ كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ﴾ [المرسلات: ٣٨ - ٣٩]، اليوم لا ⦗١٩٩⦘ ينجو مني جبار عنيد، ولا شيطان مريد، قال: فقال عبد اللَّه بن عمرو: إنا نجد في الكتاب أنه يخرج يومئذ عنق من النار فينطلق (معنقا) (٣) حتى إذا كان بين ظهراني الناس قال: يا أيها الناس إني بعثت إلى ثلاثة، أنا أعرف بهم من (الوالد بولده) (٤) ومن الأخ بأخيه، (لا يغنيهم) (٥) مني ورد ولا تخفيهم مني خافية: الذي جعل مع اللَّه إلها آخر، وكل جبار عنيد، وكل شيطان مريد، قال: فينطوي عليهم فيقذفهم في النار قبل الحساب بأربعين. قال حصين: (و) (٦) إما أربعين عاما أو أربعين يومًا، قال: ويهرع قوم إلى الجنة فتقول لهم الملائكة قفوا للحساب، (قال) (٧): فيقولون: واللَّه ما كانت لنا أموال وما كنا بعمال، قال: فيقول اللَّه: صدق عبادي، أنا (أحق من) (٨) أوفى بعهده، ادخلوا الجنة، قال: فيدخلون الجنة قبل الحساب بأربعين، إما قال: عاما وإما يوما (٩).حضرت ابو عبد اللہ الجدلی فرماتے ہیں کہ جب میں بیت المقدس آیا تو وہاں پر میں نے حضرت عبادہ بن صامت، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ ما اور حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے پایا۔ حضرت عبادہ نے کہا کہ قیامت کے دن لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ فیصلے کا دن ہے۔ ہم نے تمہیں اور پچھلے لوگوں کو جمع کیا ہے اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو کرو۔ آج مجھ سے کوئی سرکش ظالم اور شیطان نہیں بچ سکتا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب میں ملتا ہے کہ جہنم سے ایک گردن نکلے گی اور کہے گی کہ اے لوگو ! مجھے تین قسم کے گناہ گاروں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ میں انہیں خوب جانتی ہوں۔ انہیں مجھ سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے کی طرف بھیجا گیا ہے۔ ہر ظالم سرکش کی طرف بھیجا گیا ہے اور ہر باغی شیطان کی طرف بھیجا گیا ہے پھر وہ گردن ان لوگوں کو اچک لے گی اور حساب شروع ہونے سے چالیس دن یا چالیس سال پہلے انہیں آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ پھر ایک قوم تیزی سے جنت کی طرف جا رہی ہوگی۔ فرشتے ان سے کہیں گے حساب کے لیے ٹھہرو۔ وہ کہیں گے کہ ہم نہ تو مال دار تھے اور نہ حکمران تھے۔ ہمارا حساب کیسا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے بندوں نے سچ کہا۔ میں وعدے کو پورا کرنے والا ہوں۔ جنت میں داخل ہو جاؤ پھر وہ حساب شروع ہونے سے چالیس دن پہلے یا چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔