حدیث نمبر: 36885
٣٦٨٨٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا الجريري (عن أبي السليل) (١) عن غنيم بن قيس عن أبي العوام قال: قال كعب: هل تدرون ما قوله: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ [مريم: ٧١]؟ فقالوا: ما كنا نرى (أن ورودها) (٢) إلا دخولها، قال: فقال: لا، ولكنه يجاء بجهنم (فتمد) (٣) للناس كأنها متن إهالة حتى استوت عليها أقدام الخلائق برهم وفاجرهم ناداها مناد: خذي أصحابك وذري أصحابي، فتخسف بكل ولي لها فهي أعرف من الوالد بولده، وينجو المؤمنون (برية) (٤) ثيابهم، قال: وإن الخازن من خزنة جهنم ما بين منكبيه مسيرة سنة، معه عمود من حديد له شعبتان يدفع به الدفعة فيكب في النار (تسعمائة) (٥) ألف أو ما شاء اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت کعب نے لوگوں سے ارشاد فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے اس قول خدا وندی کا کیا مطلب ہے { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلاَّ وَارِدُہَا }؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے خیال میں اس سے مراد جہنم میں داخل ہونا ہے۔ فرمایا نہیں اس سے مراد یہ ہے کہ جہنم کو لایا جائے گا اور اسے لمبا کردیا جائے گا۔ جب اس پر سب نیک اور برے لوگ کھڑے ہوجائیں گے تو ایک پکارنے والا اعلان کرے گا کہ اپنے لوگوں کو لے لے اور میرے لوگوں کو چھوڑ دے۔ جہنم جہنمیوں کو دبوچ لے۔ جہنم انہیں اتنا جانتی ہوگی جتنا ماں باپ بھی اولاد کو نہیں پہچانتے۔ مومن اس سے نجات پالیں گے۔ جہنم کے داروغہ کا جسم اتنا بڑا ہے کہ اس کے دونوں شانوں کے درمیان ایک سال کی مسافت ہے، اس کے پاس لوہے کے ستون ہیں۔ وہ جس کو ایک مرتبہ مارتا ہے وہ سات لاکھ سال جہنم میں گرتا چلا جاتا ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب جـ، ط، هـ].
(٢) في [أ، هـ]: (واردها).
(٣) في [هـ]: (فتمر).
(٤) في [هـ]: (ندية).
(٥) في [هـ]: (سبعمائة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36885
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36885، ترقيم محمد عوامة 35311)