مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر فيما أعد لأهل النار وشدته باب: جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
حدیث نمبر: 36881
٣٦٨٨١ - حدثنا يحيى بن أبي بكير عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أنس ابن مالك أن رسول اللَّه ﷺ قال: "أول من يكسى حلة من نار إبليس، يضعها على (حاجبه) (١) ويسحبها من خلفه وذريته من خلفه (وهو) (٢) ينادي: يا (ثبوره) (٣)، وينادون: يا ثبورهم، قال: فيقال لهم: ﴿لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا﴾ [الفرقان: ١٤] (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سب سے پہلے جس کو آگ کا لباس پہنایا جائے گا وہ ابلیس ہے، اس کے ماتھے پر رکھا جائے گا اور اس کو پیچھے سے گھسیٹا جائے گا اور اس کی اولاد بھی اس کے پیچھے ہوگی وہ پکارے گا اے ہلاکت اس کی ذریت پکارے گی اے ان کی ہلاکت ! ان کو کہا جائے گا کہ { لاَ تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا کَثِیرًا } ایک نہیں کئی ہلاکتوں کو پکارو۔
حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (حاجبيه).
(٢) في [ط، هـ]: (و).
(٣) في [هـ]: (ثبوراه).