مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر فيما أعد لأهل النار وشدته باب: جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
٣٦٨٧٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس أنه بلغه أن عمر قال لكعب: يا كعب خوفنا، قال: نعم، يجمع اللَّه الخلائق في صعيد واحد ينفذهم البصر ويسمعهم الداعي ويجاء بجهنم، فلها يومئذ ثلاث زفرات. فأول زفرة لا تبقي دمعة في عين إلا سألت حتى ينسكب الدم، وأما الثانية فلا يبقى أحد إلا جثا لركبتيه ينادي: رب نفسي نفسي حتى خليله إبراهيم، وأما الثالثة فلو كان لك يا عمر عمل سبعين نبيا لأشفقت حتى تعلم من أي الفريقين تكون (١).حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب سے فرمایا اے کعب آپ نے ہمیں خوف زدہ کردیا حضرت کعب نے فرمایا جی ہاں، اللہ تعالیٰ تمام مخلوق ایک زمین پر جمع فرمائے گا اس دن جہنم تین سانسیں لے گی پہلی سانس کے بعد کسی آنکھ میں آنسو باقی نہ بچے گا یہاں تک کہ خون بہنے لگے گا دوسری مرتبہ میں تمام انسان گھٹنوں کے بل جھک کر عرض کریں گے یا رب نفسی نفسی یہاں تک کہ اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اور تیسری مرتبہ میں اے عمر ! اگر تیرے پاس ستر انبیاء کا عمل بھی ہو تو پھر بھی تجھے خوف ہوگا یہاں تک کہ تو جان لے کہ تو کس فریق میں سے ہے۔